top of page
Post: Blog2_Post

Book Launch: Sindhi to Siraiki

Wednesday, March 08, 2023 | 4:00 – 6:00 PM | A-12, Ground Floor, Academic Block, LUMS


Sindhi Poetry Book: بھگے ہڈ جئن ڈکھان آئون

Poet: Khalil Kumbhar

Saraiki Translation: جینویں ترٹیا ہڈ ڈکھے

Translator: Rifat Abbas

Guest Panel: Khalil Kumbhar, Rifat Abbas, Iram Kashif, Rana Mehboob Akhtar

Moderator: Dr. Nasir Abbas Nayyar

مقررین کا تعارف:

رفعت عباس سرائیکی زبان کے ممتاز شاعر اور فکشن نگار ہیں۔ اگرچہ وہ اردو تدریس سے وابستہ رہے ہیں تاہم ان کے تخلیقی و فکری اظہار کی زبان، ان کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ انھوں نے صرف سرائیکی زبان اور اس کی ثقافت کا مقدمہ اپنی شاعری اور اپنے فکشن میں پیش کیا ہے۔ ان کی کتاب مقامی آدمی کا مؤقف ان کے مقامیت بہ مقابلہ استعماریت سے متعلق تصورات کی ترجمان ہے۔ ان کی شاعری کے دس مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ جن میں پڑچھیاں اُتے پھُل، سنگت و بد، عشق اللہ سائیں جگایا اور ایں نارنگی اندر شامل ہیں۔ ان کا ناول لونڑ دا جیون گھر جس کا ترجمہ نمک کا جیون گھر مقبول ہوا ہے۔ ان کی ادبی خدمات پر انھیں حکومتِ پاکستان نے صدارتی تمغۂ امتیاز عطا کیا ہے۔ خلیل کنبھار سندھی زبان کے شاعر ہیں۔ ان کی آواز سندھ کے صحرائے تھر سے اُبھری ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے پولیس آفیسر ہیں لیکن ایک ایسے پولیس مین جو تھر اور تھرپارکر کے انسانوں کے ساتھ ساتھ وہاں کے ہرنوں، موروں کے نگہبان بھی ہیں۔ وہ ہرن کے سمگلروں کو پکڑتے اور ہرنوں کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ ان کے صحرا میں چھوڑتے ہیں۔ وہ تھرپارکر کے حسین پہاڑ کارونجھر کے بھی محافظ ہیں اور اس کی کٹائی کے خلاف عملی طور پر تحریک چلاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں سندھ کا عام فرد سورما اور سورمی بن کر ابھرتا ہے۔ وہ شودروں، اچھوتوں اور ملیچھوں کی طرف سےبولتے ہیں۔ وہ پچھڑے ہوئے لوگوں کے وکیل ہیں۔ وہ سندھ میں شاعری کا ایک نیا امکان لے کر آئے ہیں۔ ان کی سندھی شاعری کے واحد مجموعے بھگے ہڈ جیوں ڈکھان آئیوں کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔رفعت عباس نے اس سندھی شعری مجموعے کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ خلیل کنبھار کے سندھی کالموں کا اردو ترجمہ بہت جلد اب اچھوت بولے گا کے نام سے شایع ہو رہا ہے۔ ارم کاشف نجی سکول میں شعبہ اردو کی کوارڈینیٹر،لکھاری اور تبصرہ نگار ہیں۔ انھوں نے مختلف نجی اداروں کے لیے اردو نصاب ترتیب دیا۔ سرائیکی شاعری و ادب سے خاص دل چسپی رکھنے کے ساتھ ساتھ سرائیکی ادب پاروں کے تجزیے اور تبصرے پر مشتمل پروگرام ’’نیٹو آرٹ‘‘ کے نام سے کرتی ہیں۔ رانا محبوب اختر سرائیکی زبان و ادب کے معروف محقق اور نقاد ہیں۔ انگریزی ادب میں ایم۔ اے کے بعد کچھ عرصہ تدریس کی، پھر پاکستان سول سروس کے لیے منتخب ہوئے ۔ آبائی تعلق مظفر گڑھ سے ہے، ان دنوں لاہور میں مقیم ہیں۔ مونجھ سے مزاحمت تک ان کی معروف کتاب ہے جس میں سرائیکی شاعری کی مزاحمتی جہات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ وہ باقاعدگی سے روزنامہ خبریں میں کالم بھی لکھتے ہیں۔

نظامت: پروفیسر ڈاکٹرناصرعباس نیر اردو ادب کے ممتاز نقاد، اور افسانہ نگار، ناصر عباس نیّر سابق ڈائریکٹر جنرل اردو سائنس بورڈلاہوراوراس وقت پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ اردو سے بہ طور پروفیسر وابستہ ہیں۔ وہ ۲۰۲۰ءسے گرمانی مرکز زبان و ادب، لمز کے تحقیقی جریدے بنیاد کے اعزازی ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے ۳۰ کے قریب کتابیں تصنیف و تدوین کی ہیں۔ اردو میں مابعد نوآبادیاتی مخاطبے کا آغاز کیا، جب اس موضوع پر ان کی اردو کی پہلی مکمل، باقاعدہ کتاب مابعد نوآبادیات اردو کے تناظر میں (۲۰۱۳ء) سامنے آئی۔ اسی موضوع پر ان کی دوسری کتاب اردو ادب کی تشکیل جدید (۲۰۱۶ء) ہے جس نے کراچی لٹریری فیسٹیول ۲۰۱۷ءمیں بہترین اردو کتاب کا انعام اورپاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی جانب سے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ برائے اردو نثر۲۰۱۶ءحاصل کیا۔ ان کی کتاب اس کوایک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں(۲۰۱۷ء) کو یو۔ بی۔ایل ادبی ایوارڈ ۲۰۱۹ ء ملا۔ایک زمانہ ختم ہوا ہےان کی کہانیوں کا چوتھا مجموعہ ہے۔ ان کی تازہ ترین کتابیںColoniality, Modernity and Urdu Literature (۲۰۲۰ء)، جدیدیت اور نوآبادیات (۲۰۲۱ء) ،یہ قصہ کیا ہے معنی کا (۲۰۲۲ء) اور نئے نقاد کے نام خطوط (2023ء) ہیں۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے انگریزی اخبار Dawn اور The News میں باقاعدگی سے ادبی مسائل پر لکھ رہے ہیں۔


Event Coverage



گرمانی مرکز زبان و ادب، لمز میں تھر، سندھ سے تعلق رکھنے والے شاعر خلیل کنبھار کی سندھی شاعری کے سرائیکی ترجمے "جینویں ترٹیا ہڈ ڈکھے" کی تقریب رونمائی و پذیرائی منعقد ہوئی۔ اس کتاب کا ترجمہ ممتاز سرائیکی شاعر و فکشن نگار رفعت عباس نے کیا ہے۔


اس کتاب پر گفتگو رانا محبوب اختر، علی دوست عاجز اور رفعت عباس نے کی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے سر انجام دیے ۔گرمانی مرکز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نضرہ شہباز نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ تقریب میں طلبہ و طالبات کے علاوہ علی عثمان قاسمی، زاہد حسن، شائستہ حسن، اشوک کمار، الیاس چٹھہ، اما ن اللہ محسن عاقب ارشاد خاص طور پر شریک ہوئے۔


اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے کہا ’’خوشی ہے کہ ہم نے سندھ دھرتی کے ایک ایسے شاعر کو خوش آمدید کہا اور اس کی زبانی اس کی شاعری اور شاعری کا قصہ و پس منظر سنا جو خود کو اچھوتوں کی آواز کہتا ہے، جو درماندہ لوگوں کی خستہ حال روحوں کی کراہوں کو انھی کی زبان میں لکھتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ وہاں کے چرند پرند ان کے خاندان کے افراد ہیں‘‘۔


رانا محبوب اختر نے کہا خلیل کمبھار ایک پکا تھریا اور گیانی سندھی شاعر ہے۔ اس کی شاعری میں تھر کے اساطیر، کہانیاں، پرندے اور درخت بولتے ہیں۔ خلیل انوکھا شاعر ہے۔ وہ کارونجھر کے گلابی پہاڑوں پر لکھی گریفٹی کودھوکران پتھروں کو صاف کرکے چمکاتا ہے اور پھر ان پتھروں کی دھڑکنیں سنتا ہے۔رفعت عباس نے خلیل کمبھار کی سندھی شاعری کے گلال لباس کو سرائیکی زبان کے عنبر سے مشکیں بنادیا ہے۔ یہ مقامیت کا معجزہ ہے۔


علی دوست عاجز نے خلیل کمبھار کی نظم ’’ تیڈی سمجھ وچ مول نہ آسی‘‘ جس کے مرکزی کردار نے بٹوارےکے بعد تھر کو اپنا مسکن بنایا اور کارونجھر میں ہی رہا پر گفتگو کی۔


رفعت عباس نے مونجھ، تھر اور خلیل کے فن پر گفتگو کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری بھی سنائی۔


خلیل کمبھار نے کارونجھر پر گفتگو کی اور کہا کہ ریاستی میڈیا نےہماری غلط تصویر پیش کی ہے۔ انھوں نے گرمانی مرکز زبان و ادب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا میں یہاں اپنی ذاتی پزیرائی کے لیے نہیں آیا لیکن اس ملک کے ایک بڑے تعلیمی ادارے کے شاگردوں اور استادوں کے سامنے گلابی گرینائیٹ کے ایک حسین ترین پہاڑ کارونجھر کا مقدمہ رکھنے آیا ہوں۔میں یہ بتانے آیا ہوں کہ اس کرہ ارض کے ایک نادر پہاڑ کو کاٹا اور بیچا جا رہا ہے۔ میں آپ کو ننگر پارکر آنے اور قدرت کی آرٹ گیلری جیسے اس پہاڑ کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں۔اس موروں سے معمور پہاڑ کو دیکھ کر سرائیکی کے شاعر رفعت عباس نے کہا تھا کہ اس پہاڑ کی چٹانوں پر عہد بہ عہد تہذیبیں منقش ہو گئی ہیں۔آپ اس پہاڑ کو دیکھنے ائیں کہ یہی میری شاعری ہے۔


انھوں نے ایک ویڈیو بھی دکھائی جس میں ایک تھری عورت اپنی ایک چھاتی سے اپنے بچے اور دوسری چھاتی سے ہرن کے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ وہ عظیم ماں اپنے بچے کو پہلے دن سے باور کرارہی ہے کہ ہرن ، اس کے خاندان کے افراد ہیں، بھائی بند ہیں۔


یہی وجہ ہے کہ تھر میں اگر کوئی باہر سے آنے والا شکاری ہرن کا شکار کرتا ہے تو تھر کے لوگ انھیں اس کی اجازت نہیں دیتے، کوئی پھر بھی شکار کر لے تو اس سے مرے ہوئے ہرن چھین لیتے ہیں اور ان کا گوشت کھانے کے بجائے، انھیں دفن کرتے ہیں۔ پھر سوگ مناتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ باقی زندہ ہرنوں کو ہوس پرستوں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ زندہ ہرنوں کو شکاریوں سے چھین کر ان کے اصلی ٹھکانے تک پہنچاتے ہیں کہ اپنے وطن و گھر سے دور کیے جانے کا دکھ بڑا ہے، اسے ایک عمر میں جھیلا نہیں جا سکتا۔


پوری تقریب کی ویڈیو گرمانی مرکز کے فیس بک پیج پر موجود ہے۔



Comments


bottom of page